دیکھی گئی شاعری کے اقتباسات پر مبنی کثیر الانتخابی سوالات | جماعت 10
جماعت X کے طلباء کے لیے یہ کوئز اردو (کورس الف – 003) کے یونٹ مطالعہ اور تفہیم پر مبنی ہے۔ اس کوئز میں دیکھی گئی شاعری کے اقتباسات پر کثیر الانتخابی سوالات شامل ہیں، جو ادبی تشریح اور شعری صنائع بدائع جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ اپنی سمجھ کو جانچنے کے لیے تمام 10 سوالات کو حل کریں اور اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کوئز جمع کرائیں، جہاں آپ درست جوابات کے ساتھ تفصیلی تجزیہ اور PDF بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
دیکھی گئی شاعری کے اقتباسات کی تفہیم اور ادبی تشریح
اردو شاعری کی خوبصورتی کو سمجھنے کے لیے اس کے معانی اور اس میں استعمال ہونے والی شعری صنائع بدائع (poetic devices) سے واقفیت ضروری ہے۔ یہ کوئز آپ کی اس سمجھ کو پرکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، اور اب ہم ان اہم پہلوؤں پر مزید تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔
شعری فہم کے اہم نکات
- لفظی اور اصطلاحی معنی: کسی بھی شعر کو سمجھنے کے لیے اس کے الفاظ کے لغوی معنی جاننا اور پھر یہ دیکھنا کہ شاعر نے انہیں کس خاص اصطلاحی یا مجازی معنی میں استعمال کیا ہے۔
- شعر کا مرکزی خیال: ہر شعر ایک مرکزی خیال یا پیغام رکھتا ہے۔ اسے سمجھنا ضروری ہے تاکہ شاعر کے نقطہ نظر تک پہنچا جا سکے۔
- شاعر کا مقصد: شاعر صرف الفاظ کا چناؤ نہیں کرتا بلکہ ایک پیغام دیتا ہے یا کسی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ اس مقصد کو پہچاننا شعر کی گہرائی تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔
شعری صنائع بدائع (Poetic Devices)
شعری صنائع بدائع وہ خوبصورت انداز ہیں جو شاعر اپنی بات میں زور، حسن اور تاثر پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ چند اہم صنائع بدائع درج ذیل ہیں:
1. تشبیہ (Simile)
کسی ایک چیز کو کسی خاص خوبی کی بنا پر دوسری چیز کے مانند قرار دینا تشبیہ کہلاتا ہے۔ تشبیہ کے اجزا میں مشبہ، مشبہ بہ، وجہ شبہ، حرف تشبیہ شامل ہیں۔ مثال: “بچہ چاند سا خوبصورت ہے۔” یہاں بچہ (مشبہ) کو چاند (مشبہ بہ) جیسا خوبصورت (وجہ شبہ) کہا گیا ہے اور “سا” حرف تشبیہ ہے۔
2. استعارہ (Metaphor)
استعارہ کا مطلب ہے کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنوں کی بجائے مجازی معنوں میں استعمال کرنا، جب مشبہ اور مشبہ بہ میں تشبیہ کا رشتہ اتنا مضبوط ہو جائے کہ حرف تشبیہ حذف کر دیا جائے اور مشبہ بہ کو ہی مشبہ بنا دیا جائے۔ مثال: “میری آنکھوں کا تارا آ گیا۔” یہاں “تارا” (مشبہ بہ) بچے (مشبہ) کے لیے استعارے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔
3. تلمیح (Allusion)
تلمیح سے مراد ہے شعر میں کسی تاریخی، مذہبی یا ادبی واقعے، قول، یا شخصیت کی طرف مختصر اشارہ کرنا۔ یہ شاعر کی علمیت اور قاری کی سمجھ کو ظاہر کرتا ہے۔ مثال: “کیا آگ ہے نمرود کی، یا نور ہے موسیٰ کا؟” اس میں نمرود کی آگ اور موسیٰ کے نور کے واقعات کی طرف اشارہ ہے۔
4. حسن تعلیل (Figurative Reasoning)
جب شاعر کسی چیز کی ایسی وجہ بیان کرے جو حقیقی نہ ہو بلکہ صرف شاعرانہ خوبی اور تخیل پر مبنی ہو۔ مثال: “سبزہ جو آج ہے سو کل بھی ہو گا، یہ گلاب اس لیے مسکراتا ہے کہ اسے پتہ ہے وہ کل نہیں ہو گا۔” یہاں گلاب کے مسکرانے کی وجہ اس کا عارضی ہونا بیان کی گئی ہے، جو حقیقی نہیں ہے۔
5. رعایت لفظی (Word Play / Correlation)
شعر میں ایسے الفاظ کا استعمال کرنا جن کا آپس میں معنوی تعلق ہو، لیکن وہ ایک ہی اصل سے نہ ہوں۔ مثال: “شبنم، پھول، کلی، غنچہ۔” ان سب کا آپس میں تعلق ہے۔
6. محاورہ اور ضرب المثل (Idioms and Proverbs)
شاعری میں محاورات اور ضرب الامثال کا استعمال کلام میں خوبصورتی اور گہرائی پیدا کرتا ہے۔ محاورہ الفاظ کا ایسا مجموعہ ہے جو اپنے حقیقی معنوں کی بجائے مجازی معنوں میں استعمال ہو۔ ضرب المثل ایک مکمل جملہ ہوتا ہے جو کسی سچائی کو بیان کرتا ہے۔
تشبیہ اور استعارہ کا فرق
| خصوصیت | تشبیہ | استعارہ |
|---|---|---|
| تعریف | ایک چیز کو دوسری چیز جیسا قرار دینا (جیسا، کی طرح) | ایک چیز کو بعینہ دوسری چیز قرار دینا (یعنی اصلی چیز کو چھپا دینا) |
| حرف تشبیہ | موجود ہوتا ہے (مثلاً: سا، کی طرح، مانند) | موجود نہیں ہوتا (حذف کر دیا جاتا ہے) |
| مثال | تمہارا چہرہ چاند جیسا ہے۔ | چاند آ گیا (چہرہ مراد ہے)۔ |
فوری نظر ثانی
- شاعری کی تفہیم کے لیے لفظی و اصطلاحی معنی، مرکزی خیال اور شاعر کا مقصد سمجھنا ضروری ہے۔
- تشبیہ میں ایک چیز کو دوسری جیسا قرار دیا جاتا ہے۔
- استعارے میں ایک چیز کو بعینہ دوسری چیز بنا دیا جاتا ہے۔
- تلمیح میں کسی مشہور واقعے یا شخصیت کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
- حسن تعلیل میں غیر حقیقی لیکن شاعرانہ وجہ بیان کی جاتی ہے۔
- رعایت لفظی میں متعلقہ الفاظ کا چناؤ ہوتا ہے۔
- محاورات اور ضرب الامثال کلام کو پرتاثیر بناتے ہیں۔
اضافی مشقی سوالات
1. سوال: اس شعر میں کون سی شعری صنعت استعمال ہوئی ہے؟
“پھولوں سے نہ کھیل اے بلبل، یہ دن دو دن کی بہار ہے”
- تشبیہ
- استعارہ
- تلمیح
- حسن تعلیل
صحیح جواب: ب) استعارہ (بلبل اور پھولوں کا دن دو دن کی بہار کے ساتھ)
2. سوال: “آگ پانی ہونا” کس قسم کی ادبی اصطلاح ہے؟
- تشبیہ
- استعارہ
- محاورہ
- ضرب المثل
صحیح جواب: ج) محاورہ
3. سوال: یہ مصرع کس شعری صنعت کی مثال ہے؟
“ہاتھ کٹ گئے تیرے، اے یوسف کے خریدنے والے!”
- تشبیہ
- استعارہ
- تلمیح
- حسن تعلیل
صحیح جواب: ج) تلمیح (حضرت یوسفؑ کا واقعہ)
4. سوال: “بچہ شیر کی طرح بہادر ہے” اس جملے میں ‘شیر’ کیا ہے؟
- مشبہ
- مشبہ بہ
- وجہ شبہ
- حرف تشبیہ
صحیح جواب: ب) مشبہ بہ
5. سوال: اگر شاعر کہے کہ “ستارے اس لیے چمکتے ہیں کہ وہ دن کو چھپنے کی وجہ سے رات کو اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں” تو یہ کون سی صنعت ہے؟
- تشبیہ
- استعارہ
- تلمیح
- حسن تعلیل
صحیح جواب: د) حسن تعلیل

Content created and reviewed by the CBSE Quiz Editorial Team based on the latest NCERT textbooks and CBSE syllabus. Our goal is to help students practice concepts clearly, confidently, and exam-ready through well-structured MCQs and revision content.